اہل بیت نیوز ایجنسی (ابنا) کے مطابق، راجہ ناصر عباس جعفری نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے اتحاد پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے پارلیمنٹ سے مشاورت کیے بغیر سعودی عرب کے حوالے سے اتنے بڑے وعدے اور ذمہ داریاں قبول کرلیں، جو پاکستانی عوام کی خواہشات کے خلاف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انصار اللہ کے یمنی، سعودیوں سے زیادہ مسلمان، بہتر اور مضبوط ایمان کے حامل ہیں۔ ان کے بقول، یمنیوں نے قبلۂ اول بیت المقدس کے دفاع کے لیے اپنے صدر اور کابینہ تک کی قربانیاں دی ہیں۔
جعفری نے الزام لگایا کہ سعودی عرب نے یمن کو سمندری، فضائی اور زمینی محاصرے میں رکھا ہوا ہے، جس کے باعث ایک کروڑ افراد پانی، خوراک اور ادویات سے محروم ہوکر مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ صورت حال امریکا، اسرائیلی حکومت اور مغربی ممالک کے تعاون سے پیدا ہوئی اور 2015 سے اب تک یمن پر چھ لاکھ حملے کیے جاچکے ہیں۔
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ نے سوال اٹھایا کہ اگر پاکستان اور سعودی عرب اتحاد کرسکتے ہیں تو اسرائیل کے خلاف ایسا اتحاد کیوں نہیں بنایا جاتا؟ انہوں نے کہا کہ یمنی اپنی آزادی اور خودمختاری پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں اور فلسطین کے مظلوم عوام کی حمایت کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، یمنی قبلۂ اول پر قابض قوتوں کے مخالف ہیں، لیکن انہیں محاصرے اور الزامات کے ذریعے سزا دی جارہی ہے۔
جعفری نے سوال کیا کہ کیا سعودی عرب نے اسرائیل کی جانب کبھی کوئی میزائل داغا ہے؟ انہوں نے مزید کہا کہ جب فلسطین پر حملے ہورہے تھے تو سعودی عرب نے فلسطینیوں کے لیے کیا اقدامات کیے؟ ان کے بقول، پاکستان کے وزیراعظم کو یہ حق کس نے دیا کہ وہ بین الاقوامی فورمز پر یمنیوں پر مکہ مکرمہ پر حملے کا الزام عائد کریں اور اسے پاکستان کی سرخ لکیر قرار دیں؟ انہوں نے کہا کہ یمنی بھی مسلمان ہیں، ان کی بھی اپنی سرخ لکیریں ہیں اور انہوں نے قبلۂ اول کے دفاع میں قربانیاں دی ہیں۔
انہوں نے سعودی عرب پر تنقید کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ’’قاتلِ امن‘‘ قرار دیا اور کہا کہ جنہیں بعض لوگ خدا کی نعمت کہتے ہیں، وہ درحقیقت امن کے قاتل ہیں۔ جعفری نے یمنی سادات کو پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ، حضرت علیؑ، حضرت فاطمہؑ، امام حسنؑ اور امام حسینؑ کی نسل سے قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ دین کے مدافع ہیں، اس کے باوجود ان پر خانۂ کعبہ پر حملے کے الزامات لگائے جارہے ہیں۔
راجہ ناصر عباس جعفری نے سعودی عرب کے اس اعلان کا بھی حوالہ دیا کہ اس نے یمن پر 100 طیاروں سے حملہ کیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ باب المندب سعودی عرب کا ہے یا یمن کا، اور سعودی عرب کو وہاں حملے کرنے کا اختیار کس نے دیا؟ ان کے مطابق، پاکستان کو سعودی اتحاد میں شامل ہونے کے بجائے ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ یمن کے صدر اور پارلیمنٹ کے سربراہ پاکستان کو خطوط لکھ کر بارہا درخواست کرچکے ہیں کہ وہ دونوں فریقوں کے درمیان امن قائم کرانے میں مدد دے۔ جعفری کے بقول، یمنی اپنے حقوق کا مطالبہ کررہے ہیں اور ظالمانہ محاصرہ ختم کرنے کی اپیل کررہے ہیں، جبکہ لاکھوں افراد اس صورت حال سے متاثر ہیں۔
جعفری نے کہا کہ جو بھی فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، اس کے خلاف اتحاد قائم کرلیا جاتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ بچوں کے قاتلوں کے خلاف اتحاد کیوں نہیں بنایا جاتا اور فلسطین، غزہ اور قبلۂ اول کو سرخ لکیر کیوں قرار نہیں دیا جاتا؟ ان کے مطابق، مکہ مکرمہ کا نام لے کر مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا کیے جارہے ہیں، لیکن اب لوگ ایسے دعوؤں سے دھوکا نہیں کھائیں گے۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو امن کے قیام میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، پاکستان ایک جوہری طاقت ہے اور اس کی آبادی 26 کروڑ ہے، جبکہ پاکستانی عوام دین اور اسلام سے محبت کرتے ہیں۔ جعفری نے کہا کہ یمنی عوام شدید مشکلات کے باوجود فلسطینی مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کی حمایت کو جرم ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
انہوں نے سابقہ 17 ملکی اتحاد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اتنے ممالک کے اتحاد کے باوجود یمنیوں کو شکست نہیں دی جاسکی۔ ان کے مطابق، یمنی موت کو سعادت اور شہادت کو کامیابی سمجھتے ہیں اور ذلت قبول نہیں کرتے۔ انہوں نے امام حسینؑ کے معروف قول ’’ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة‘‘ کا حوالہ بھی دیا، جس کا مفہوم ہے کہ ذلت ہم سے کوسوں دور ہے۔
جعفری نے مزید کہا کہ حرمین شریفین کے تحفظ کے نام پر کسی ایک ملک کے بجائے تمام مسلمان ممالک کی مشترکہ فورس تشکیل دی جانی چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یمن نے اپنی تاریخ میں کبھی کسی ملک پر حملہ نہیں کیا، سوائے ان کارروائیوں کے جنہیں وہ فلسطینیوں کی حمایت اور اسرائیل کے خلاف اقدامات قرار دیتے ہیں۔
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ نے بتایا کہ یمن کے نائب وزیر خارجہ نے ان سے رابطہ کرکے سوال کیا کہ پاکستان اس معاملے میں کوئی اقدام کیوں نہیں کررہا۔ جعفری نے اپیل کی کہ خدا کے لیے ثالثی کی جائے اور بے گناہوں کے خون سے ہاتھ رنگنے سے گریز کیا جائے۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ سعودی عرب فضائی حملوں سے کچھ حاصل نہیں کرسکے گا اور نہ ہی اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگا۔ ان کے مطابق، ماضی میں بھی لاکھوں فضائی حملوں کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جاسکے۔
آپ کا تبصرہ